حدیث نمبر: 22472
٢٢٤٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث (في) (١) رجل كان له على رجل دراهم فقال له: (اشتر لي) (٢) بها شيئًا، [فقال: لا بأس، وإن هلك الذي اشترى له، فبينته أنه (له) (٣) اشترى وإلا لم يصدق أنه اشتراه له، وإن كانت مضاربة فلا يشتري له بها شيئًا] (٤) حتى (يقبضها) (٥) أو يعطيها وليًا له.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حارث سے مروی ہے کہ ایک شخص کے ذمہ دوسرے کے کچھ دراہم بطور امانت تھے، اس شخص نے اس سے کہا کہ ان سے میرے لئے کچھ خرید لے، آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، ہاں اگر وہ چیز ہلاک ہوگئی اس کو گواہ پیش کرنے پڑیں گے کہ وہ اس کے لئے خریدا گیا تھا، وگرنہ اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کہ وہ اس کے لئے خریدا گیا تھا، اور اگر وہ بطور مضا ربت ہو تو وہ اس سے اس کے لئے کچھ نہ خریدے جب تک کہ وہ اس پر قبضہ نہ کرلے یا اس کو اس پر کوئی ولی نہ دے دے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) في [ط]: (اشترط).
(٣) سقط من: [أ، ح، س، هـ].
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [ط].
(٥) في [ط]: (يقبضه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22472
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22472، ترقيم محمد عوامة 21571)