مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يأخذ البعير الضال فينفق عليه باب: کسی شخص کو گمشدہ اونٹ ملے اور وہ اُس پر خرچ کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22452
٢٢٤٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: سمعت النعمان بن مرة يحدث (١) سعيد بن المسيب قال: رأيت عليًا بنى للضوال مربدًا، فكان يعلفها علفا لا يسمنها ولا يهزلها من بيت المال، فكانت تشرف بأعناقها، فمن أقام بينة على شيء أخذه، وإلا أقرها على حالها لا يبيعها (٢). (فقال) (٣) سعيد بن المسيب: لو وليت أمر المسلمين صنعت هكذا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گمشدہ اونٹوں کے لئے باڑہ بنایا ہوا تھا، اس میں ان کو چارہ ڈالا جاتا، نہ ان کو بہت فربہ کیا جاتا نہ بہت لاغر، سارا خرچ بیت المال کے ذمہ ہوتا، وہ اونٹ گردنوں کو بلند کرکے جھانکا کرتے تھے، اگر کوئی شخص کسی اونٹ پر گواہ پیش کردیتا تو وہ لے لیتا وگرنہ وہ باڑہ میں اسی حال میں رہتے، اس کو فروخت نہ کیا جاتا۔ حضرت سعید بن مسیب فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے مسلمانوں کا امیر بنایا جاتا تو میں یہی کرتا۔
حواشی
(١) في [هـ] زيادة: (عن).
(٢) صحيح.
(٣) في [جـ، ز]: (قال).