مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يأخذ البعير الضال فينفق عليه باب: کسی شخص کو گمشدہ اونٹ ملے اور وہ اُس پر خرچ کرے تو کیا حکم ہے؟
٢٢٤٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي قال: أضل رجل بعيرًا، فوجده عند رجل قد أنفق عليه، أعلفه، وأسمنه، فاختصما إلى عمر بن عبد العزيز وهو يؤمئذ أمير على المدينة، فقضى لصاحب البعير ببعيره، وقضى عليه بالنفقة.حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا اونٹ گم ہوگیا، اس نے اپنا اونٹ دوسرے شخص کے پاس پایا جو اس کو کھلا پلا رہا ہے، اس کو چارہ دے کر فربہ کردیا ہے، وہ دونوں اپنا جھگڑا حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس لے کر گئے، آپ ان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، آپ نے اونٹ کے مالک کے لئے اونٹ کا فیصلہ فرمایا اور اس پر اس کے خرچہ کی ادائیگی کو لازم فرمایا، حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے اس فیصلہ نے تعجب میں نہیں ڈالا، پھر آپ نے فرمایا کہ آدمی اپنا اونٹ پکڑ لے اس پر کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں ہے۔