حدیث نمبر: 2244
٢٢٤٤ - حدثنا شريك عن (علي) (١) بن علي عن إبراهيم قال: شيعنا علقمة إلى مكة فخرجنا بليل فسمع مؤذنا يؤذن فقال: أما هذا فقد خالف سنة أصحاب محمد ﷺ لو (كان) (٢) نائمًا خيرًا له فإذا طلع الفجر أذَّن (٣).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علقمہ کے ہمراہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ رات کے وقت میں انہوں نے ایک مؤذن کو اذان دیتے سنا تو فرمایا کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی مخالفت کی ہے، اگر یہ سویا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا، پھر جب صبح طلوع ہوتی تو اس وقت اذان دیتا۔

حواشی
(١) في حاشية [ب]: (عن إبراهيم مرسلًا ولم يرو عنه إلا شريك أو شاركه قيس بن ربيع)، وانظر: التاريخ الكبير ٦/ ٢٨٧، والجرح والتعديل ٦/ ١٩٧.
(٢) زيادة من [أ، ب، جـ، ك].
(٣) مجهول؛ لجهالة علي بن علي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2244
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2244، ترقيم محمد عوامة 2238)