کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو مکرو ہ خیال فرماتے ہیں کہ مؤذن طلوع فجر سے پہلے اذان دے
٢٢٤٠ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن شداد (١) مولى عياض بن عامر عن ⦗٤٥٨⦘ بلال: أن النبي ﷺ قال: " (لا تُؤَذِّنْ) (٢) حَتَّى (تَرَى) (٣) الْفَجْرَ هَكَذَا" ومد يديه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شداد فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت بلال کو فرمایا کہ تم اس وقت تک اذان نہ دو جب تک روشنی اس طرح نہ دیکھ لو۔
٢٢٤١ - حدثنا أبو خالد (عن حجاج) (١) عن طلحة عن سويد عن بلال قال: كان لا يؤذن حتى ينشق الفجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید فرماتے ہیں کہ حضرت بلال اس وقت تک اذان نہ دیتے جب تک فجر روشن نہ ہوجاتی۔
٢٢٤٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء عن أبي محذورة: أنه أذن لرسول اللَّه ﷺ ولأبي بكر وعمر فكان لا يؤذن حتى يطلع الفجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابو محذورہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے لیے اذان دی ہے، وہ طلوع فجر سے پہلے اذان نہ دیتے تھے۔
٢٢٤٣ - حدثنا جرير عن منصور عن أبي إسحاق عن الأسود عن عائشة قالت: ما كانوا يؤذنون حتى ينفجر الفجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام طلوع فجر تک اذان نہ دیتے تھے۔
٢٢٤٤ - حدثنا شريك عن (علي) (١) بن علي عن إبراهيم قال: شيعنا علقمة إلى مكة فخرجنا بليل فسمع مؤذنا يؤذن فقال: أما هذا فقد خالف سنة أصحاب محمد ﷺ لو (كان) (٢) نائمًا خيرًا له فإذا طلع الفجر أذَّن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علقمہ کے ہمراہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ رات کے وقت میں انہوں نے ایک مؤذن کو اذان دیتے سنا تو فرمایا کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی مخالفت کی ہے، اگر یہ سویا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا، پھر جب صبح طلوع ہوتی تو اس وقت اذان دیتا۔
٢٢٤٥ - حدثنا ابن مهدي عن سليمان عن الحسن بن عمرو عن فضيل بن عمرو عن إبراهيم: أنه كره أن يؤذن قبل الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فجر سے پہلے اذان دینے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٢٢٤٦ - [حدثنا ابن نمير (عن عبيد اللَّه) (١) قال: قلت لنافع: إنهم كانوا ينادون قبل الفجر] (٢) قال: ما كان النداء إلا مع الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے سوال کیا کہ کیا صحابہ کرام فجر سے پہلے اذان دیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اذان تو فجر کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔
٢٢٤٧ - حدثنا هشيم عن منصور عن الحسن قال: شكوا في طلوع الفجر في عهد ابن عباس فأمر مؤذنه فأقام الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے زمانے میں لوگوں کو فجر کے طلوع کے بارے میں شک ہوا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن کو حکم دیا اور اس نے اذان کی اقامت کہی۔
٢٢٤٨ - حدثنا الفضل بن دكين عن شريك عن (ابن) (١) سالم عن عامر قال: لا يؤذن للصلاة حتى يدخل وقتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ وقت داخل ہونے تک نماز کے لیے اذان نہ کہی جائے گی۔