مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
المضارب إذا خالف فربح باب: مضارب رب المال کی مخالفت کرے اور نفع کما لے
حدیث نمبر: 22259
٢٢٢٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن داود بن أبي هند عن (رياح) (١) (ابن) (٢) عبيدة أن رجلًا بعث معه ببضاعة، فلما كان ببعض (الطريق) (٣) رأى شيئًا يباع، فأشهد أنه ضامن للبضاعة ثم اشترى بها ذلك ⦗٤٩٦⦘ الشيء، فلما قدم المدينة باع الذي اشترى فربح، فسأل ابن عمر عن ذلك فقال: الربح لصاحب المال (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ریاح بن عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے ساتھ سامان تجارت بھیجا جب وہ راستہ میں تھا تو اس نے دیکھا کہ کچھ فروخت ہو رہا ہے پھر اس کو یاد آیا کہ وہ سامان کا ضامن ہے، اس نے اس سامان سے وہ چیز خرید لی ، جب مدینہ آیا تو اس خریدی ہوئی چیز کو فروخت کر کے نفع کھایا، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نفع رب المال کا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (رباح).
(٢) في [ز]: (عن).
(٣) في [هـ، س]: (الطرق).
(٤) منقطع؛ رباح لم يدرك ابن عمر.