حدیث نمبر: 22201
٢٢٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب و (عبيد اللَّه) (١) عن أبي هلال عن غالب القطان عن أبي (المهزم) (٢) أن رجلًا أتى أبا هريرة في غريم له فقال: (احبسه) (٣) قال: قال أبو هريرة: هل تعلم له (عينًا) (٤) فآخذه به؟ قال: لا، قال: فهل تعلم له عقارًا أكسره؟ قال: لا، قال: فما تريد؟ قال: أحبسه، (قال) (٥): لا، ولكني أدعه يطلب لك ولنفسه ولعياله (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مھزم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص اپنے مقروض کو لے کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ اس کو قید کروائیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کے پاس مال موجود ہے جو میں اس سے لے کر تجھے دوں ؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کی ملکیت میں بڑی زمین ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں آپ نے پوچھا کہ پھر تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ اس کو قید کریں : آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں اس کو چھوڑتا ہوں تاکہ یہ تیرے لئے اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لئے روزی کمائے۔

حواشی
(١) في [ز]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ز]: (المهدي).
(٣) في [جـ، و]: (أجلسه).
(٤) في [ط]: (عين مال).
(٥) سقط من: [ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22201
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدا؛ أبو المهزم متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22201، ترقيم محمد عوامة 21321)