مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يكلم الرجل في الشيء فيهدي له باب: ایک شخص دوسرے شخص سے کسی بات پر گفتگو کرتا ہے، اور پھر اسے اس کی بنا پر تحفہ (هدیہ) دیتا ہے
٢٢١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن (الحسن) (١) قال: (أتى) (٢) دهقان من دهاقين سواد الكوفة عبد اللَّه بن جعفر يستعين به في شيء على علي، (قال) (٣): فكلم له عليا فقضى له حاجته، قال: فبعث إليه الدهقان بأربعين ألفا وبشيء معها لا أدري ما هو؟ فلما وضعت بين يدي عبد اللَّه بن جعفر قال: ما هذا؟ قيل له: بعث بها الدهقان الذي كلمت له في حاجته أمير المؤمنين، قال: ردوها عليه، فإنا أهلَ بيت لا نبيع المعروف (٤).حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کوفہ کے گاؤں کے چودھریوں میں سے ایک چودھری حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ حضرت عبداللہ بن جعفر سے علی رضی اللہ عنہ کے خلاف مدد مانگ (کوئی سفارش) مانگ رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی سفارش کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ضرورت پوری فرما دی، چودھری نے آپ کو چالیس ہزار درہم ہدیہ میں بھیجے اور اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، جب وہ سب کچھ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جس چودھری کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سفارش فرمائی تھی اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بھیجا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واپس اس کو بھیج دو ، ہم اہل بیت نیکی فروخت نہیں کیا کرتے۔