حدیث نمبر: 22134
٢٢١٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن في ⦗٤٦٨⦘ الرجل (تجلى) (١) (عليه) (٢) امرأته فيقولون: لا (نريك) (٣) حتى تنحلها شيئًا، قال: هي واجبة عليه، يؤخذ بها.مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص کہ جس کے لیے بیوی کو تیار کیا جائے اور لوگ اس شخص سے کہیں کہ ہم تجھ کو بیوی اس وقت تک نہیں دکھائیں گے جب تک کہ تو کوئی چیز عطیہ نہ کر دے۔ حسن رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عطیہ اس پر واجب ہے جو اس سے لیا جائے گا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (يجيء)، وفي [جـ]: (تحلى).
(٢) في [هـ]: (على).
(٣) في [س، هـ]: (نترك)، وفي [ط]: (لا نرتك).