مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري الشيء (فيجد) به العيب باب: ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22076
٢٢٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: [حدثنا وكيع قال: حدثنا] (١) عمر بن [ذر] (٢) قال: كان القاسم بن عبد الرحمن يستحلف الرجل ما يدفعه عن حق (يعلمه) (٣) له.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ذر فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن عبد الرحمن اس بات پر قسم لیا کرتے تھے کہ بائع نے جب اس چیز کو حوالے کیا تو اس کے عیب کا اسے علم نہیں تھا، حضرت شعبی یمین مرسلہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا گناہ اس پر ہے جو جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے۔
حواشی
(١) سقط من [أ، ب، جـ، س، ز، ط، هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (زر).
(٣) في [ح، ط]: (تعلمه).