حدیث نمبر: 21703
٢١٧٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي زائدة عن يحيى بن سعيد عن نافع قال: كان ابن عمر إذا سئل عن الرجل يبتاع من الرجل شيئا إلى أجل وليس عنده أصله، لا يرى به بأسا (١)،
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا جاتا کہ ایک آدمی کسی آدمی سے ایک مدت تک کسی چیز کا معاملہ کرتا ہے حالانکہ لوگوں کے پاس اس کی اصل موجود نہیں تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ وہ فرماتے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، یحییٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب اس کو مکروہ قرار دیتے تھے۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21703
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21703، ترقيم محمد عوامة 20855)