حدیث نمبر: 21575
٢١٥٧٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال: إن جاريتي أرضعت (ابني) (١) (أفأبيعها) (٢) قال: فقال عبد اللَّه: لوددت أنه أخرجها إلى السوق فقال: من يشتري مني أم ولدي (فكأنه) (٣) كرهه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبدا للہ سے سوال کیا کہ میری باندی نے میرے بیٹے کو دودھ پلایا ہے، کیا میں ا س باندی کو بیچ سکتا ہوں ؟ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس بات پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بات کتنی عجیب ہوگی کہ تم اسے بازار لے جاؤ اور آواز لگاؤ کہ مجھ سے میرے بچے کی ماں کون خریدے گا ؟

حواشی
(١) في [ب، س، ز، ك]: (أمى)، وفي [ط]: (إلى).
(٢) في [أ، ب، س، هـ]: (أما أبيعها).
(٣) في [جـ، ز، ك]: (كأنه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21575
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21575، ترقيم محمد عوامة 20732)