مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من رخص في جوانز (الأمراء) (و) (العمال) باب: امراء اور گورنروں کے تحائف قبول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 21561
٢١٥٦١ - حدثنا جرير عن العلاء عن حماد عن إبراهيم قال: لو أتيتُ عاملا (فأجازني) (١) لقبلت منه، إنما هو بمنزلة بيت المال، يدخله الخبيث و (الطيب) (٢) ⦗٣٤٢⦘ وقال: إذا (أتاك) (٣) البريد في أمر معصية فلا خير في جائزته، وإذا أتاك بأمر ليس به بأس فلا بأس (بجائزته) (٤).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں اگر کسی عامل کے پاس جاؤں اور وہ مجھے کچھ تحائف دے تو میں اسے قبول کرلوں گا، وہ بیت المال کے درجے میں ہے جس میں اچھا برا ہر طرح کا مال آتا ہے، جب قاصد تمہارے پاس کسی معصیت والے کام کے لیے تحفہ لے کر آئے تو اس تحفے میں کوئی خیر نہیں لیکن اگر کسی جائز کام کے لیے تحفہ لائے تو اس تحفے میں کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (وأجازني).
(٢) في [س]: (الطبيب).
(٣) في [ب، س]: (أناك).
(٤) في [س]: (بجائزة).