مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الشريكين من قال: الربح على ما اصطلحا عليه و (الوضيعة) على (رأس) المال باب: ان حضرات کے اقوال کا تذکرہ جو فرماتے ہیں کہ اگر کسی چیز میں دو شریک ہوں تو نفع ان کی طے کردہ مقدار کے بقدر تقسیم ہو گا اور نقصان راس المال میں سے پورا کیا جائے گا
حدیث نمبر: 21156
٢١١٥٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن أشعث عن الحكم عن شريح أنه قال: إذا (ولاه) (١) الرجل بصفقة بنسيئة، ثم أدخل فيها رجلا آخر، فالضمان على صاحب الصفقة وليس على شريكه شيء ما لم يكن نقد، فإن كان نقد، (فالوضيعة) (٢) على صاحب النقد، والربح على ما (اصطلحا) (٣) عليه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے ادھار پر کوئی معاملہ کیا، پھر اس میں کسی دوسرے آدمی کو شریک کرلیا تو ضمان معاملہ کرنے والے پر ہوگا اگر دوسرے کی طرف سے کوئی نقدی نہ ہو تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا اور اگر نقدی ہو تو نقصان نقدی والے کو ہوگا اور نفع طے شدہ حصہ کے بقدر تقسیم ہوگا۔
حواشی
(١) في [س، ط]: (والاه).
(٢) في [س]: (الوضعية).
(٣) (اصطلحوا) في [ب].