مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الشريكين من قال: الربح على ما اصطلحا عليه و (الوضيعة) على (رأس) المال باب: ان حضرات کے اقوال کا تذکرہ جو فرماتے ہیں کہ اگر کسی چیز میں دو شریک ہوں تو نفع ان کی طے کردہ مقدار کے بقدر تقسیم ہو گا اور نقصان راس المال میں سے پورا کیا جائے گا
حدیث نمبر: 21148
٢١١٤٨ - حدثنا شريك عن جابر عن أبي جعفر قال: إذا اشترى الرجل المتاع و (أشرك) (١) فيه أحدا، فالربح على ما (اشتركا) (٢) عليه، و (الوضيعة) (٣) على المال.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز خریدی پھر اس میں کسی دوسرے کو شریک بنایا تو نفع طے کردہ مقدار کے برابر ہوگا اور نقصان مال میں سے پورا کیا جائے گا۔
حواشی
(١) (اشترك) في [ط]، وفي [س]: (الشرك).
(٢) في [هـ]: (اشترطا).
(٣) (الوضعية) في [س].