حدیث نمبر: 20972
٢٠٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن سفيان عن أبيه عن عباية بن رفاعة عن جده رافع بن خديج قال: كنا مع النبي ﷺ (١) [فند بعير فضربه رجل بالسيف، فذُكر (ذلك) (٢) للنبي ﵇] (٣) فقال: "إن هذه البهائم لها أوابد كأوابد الوحش، فما (٤) (غلبكم) (٥) منها فاصنعوا (به) (٦) هكذا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اتنے میں ایک اونٹ سرکش ہوگیا۔ ایک آدمی نے اسے تلوار مار دی۔ اس بات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ پالتو جانوروحشی جانوروں کی طرح بعض اوقات سرکش اور بےقابو ہوجاتے ہیں جو جانور تمہارے بس سے باہر ہوجائیں ان کے ساتھ یونہی کرو۔

حواشی
(١) في [ط، ك]: ﵇.
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، ك]: زيادة (ذلك).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٤) في [هـ]: زيادة (ند).
(٥) في [س، هـ]: (عليكم).
(٦) سقط من: [ب، ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 20972
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥٤٣)، ومسلم (١٩٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20972، ترقيم محمد عوامة 20155)