مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
المناجل تنصب (فتقطع) باب: اگر درانتیاں شکار کے لیے لگائی جائیں اور ان کی زد میں کوئی شکار آجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20880
٢٠٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: إذا وقع الصيد في (الحبالة) (١) فكان فيها حديدة فأصاب الصيد الحديدة فكل، وإن لم (يصب) (٢) الحديدة (و) (٣) لم تدرك ذكاته فلا تأكل.مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر جانور کسی جال میں گرا اور اس میں لوہے کے آلات لگے اور وہ لوہا اس کو چھو گیا تو کھالو اور اگر لوہا اس کو نہیں چبھا اور تمہیں وہ جانور ذبح کرنے کا موقع بھی نہیں ملا تو اسے مت کھاؤ۔
حواشی
(١) في [س]: (الجبالة).
(٢) كذا في [س، ط، هـ]: (يعب)، وفي [جـ، ك]: (تصبه)، وفي [أ، ب]: (تصب)، وفي [ز]: (يصيبه).
(٣) في [ز، ك، هـ]: (وإن)، وفي [س، ط، هـ]: (فإن).