حدیث نمبر: 2059
٢٠٥٩ - حدثنا أبو داود عن شعبة (١) قال:] (٢) كنت (أخوض) (٣) المطر، فسألت الحكم؟ فقال: (صله) (٤) قال: وسمعت أبا إسحاق يقول: كانوا يخوضون، ثم يصلون، ولا يحملون معهم الأكواز.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں بارش میں سے گذرا کرتا تھا، اس بارے میں میں نے حضرت حکیم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسی میں نماز پڑھ لو، اسی میں نماز پڑھ لو، میں نے ابو اسحاق کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلاف بارش میں سے گذرتے تھے اور نماز پڑھ لیتے تھے۔ وہ اپنے ساتھ لوٹے نہیں اٹھاتے تھے۔

حواشی
(١) في [خ]: (سعد) زائدة.
(٢) في [خ]: ما بين المعكوفين محذوف.
(٣) في [خ]: (تخوض).
(٤) في [جـ، ك]: (صله، صله) تكرار.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 2059
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2059، ترقيم محمد عوامة 2053)