حدیث نمبر: 2051
٢٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن عيسى (الرملي) (١) عن رزين قال: جاء رجل إلى (أبي جعفر) (٢)، فقال (له) (٣): إني أخرج في الليلة (المطيرة) (٤)، فأدوس الطين؟ قال: صل، قال: إني أخاف أن يكون فيها النتن، والقذرة؟، فكأنه غضب فقال: إن كنت تدوس (النتن) (٥) برجليك، فخذ معك ماء، فاغسل به رجليك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت رزین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضرت ابو جعفر کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ بعض اوقات میں بارانی رات میں گھر سے نکلتا ہوں اور میرے پاؤں پر کیچڑ لگ جاتا ہے اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایا نماز پڑھ لو، اس آدمی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات اس میں بدبو اور گندگی بھی ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم کسی بدبو دار چیز سے گذرو تو پانی سے اسے دھو لو۔

حواشی
(١) في [أ]: (الزمني).
(٢) في [ك]: (ابن جعفر).
(٣) سقط في [أ، خ، ك].
(٤) في [أ، خ]: (المطرة).
(٥) في [هـ]: (الطين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 2051
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2051، ترقيم محمد عوامة 2045)