حدیث نمبر: 2041
٢٠٤١ - حدثنا زاجر بن الصلت عن الحارث بن مالك قال: انطلقت إلى منزل الحسن، فجاء رجل، فسأله، فقال: يا أبا سعيد، الرجل يبيت في الثوب، فيصبح، وفيه من دم البراغيث شيء كثير؛ يغسله، أو ينضحه، أو يصلي فيه؟ قال: لا ينضحه ولا يغسله، يصلي فيه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن مالک کہتے ہیں کہ میں حسن کے گھر میں ان کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کسی کپڑے میں رات گذارے اور صبح اس کے کپڑوں پر پسو کا بہت سا خون لگا ہو تو کیا وہ اسے دھوئے، یا اس پر پانی چھڑکے یا انہی میں نماز پڑھ لے ؟ فرمایا کہ نہ اس پر پانی چھڑکے، نہ اسے دھوئے بلکہ اسی حال میں نماز پڑھ لے۔