مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في لبن (الفحل) من كرهه باب: جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مردبھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
١٨٢٥٦ - حدثنا ابن علية عن محمد بن عمرو قال: قدم الزهري في أول خلافة هشام فذكر أن عروة كان يحدث عن عائشة أن أبا القعيس جاء يستأذن على عائشة وقد أرضعتها امرأة (أخيه) (١) فأبت تأذن له (فزعم) (٢) عروة أن عائشة ذكرت ذلك للنبي ﷺ فقال: " (فهلَّا) (٣) أذنت له؟ (فإن) (٤) الرضاعة تحرم ما (تحِرّمُ) (٥) (٦) الولادة" (٧).حضرت محمد بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زہری ہشام رحمہ اللہ کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں مدینہ منورہ آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ابو قعیس رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے اجازت چاہتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو قعیس کو ابو قعیس کے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ حضور ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے انہیں اجازت کیوں نہیں دی، رضاعت بھی ان چیزوں کو حرام کردیتی ہے جنہیں نسب حرام کرتا ہے۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر اہل مدینہ گھبرا گئے۔ عبد اللہ بن ابی حبیبہ مولی زبیر نے اس موقع پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔