مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في لبن (الفحل) من كرهه باب: جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مردبھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
١٨٢٤٩ - حدثنا ابن علية عن عباد بن منصور قال: سألت القاسم بن محمد قلت: امرأة (أبي) (١) أرضعت جارية من (عرض) (٢) الناس (بلبان) (٣) (إخوتي) (٤) من أبي، تحل لي؟ قال: لا! أبوك أبوها.حضرت عباد بن منصور رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ میرے والد کی بیوی نے ایک لڑکی کو میری باپ شریک بہن کے حصے کا دودھ پلایا، کیا وہ لڑکی میرے لئے حلال ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، تیرا باپ اس کا باپ ہے۔ میں نے یہی سوال حضرت طاوس رحمہ اللہ کیا انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ یہ سوال میں نے حسن رحمہ اللہ سے کیا انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ یہ سوال میں نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے کیا انہوں نے فرمایا کہ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ میں اس میں کوئی بات نہیں کہتا۔ میں نے ابن سیرین رحمہ اللہ سے یہ سوال کیا تو انہوں نے بھی حضرت مجاہد رحمہ اللہ والی بات کہی۔