مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
من قال: يحرم قليل الرضاع وكثيره باب: جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
حدیث نمبر: 17906
١٧٩٠٦ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن عبد الرحمن (٢) بن (عابس) (٣) قال: ⦗٤٣٦⦘ سمعت ابن عباس (و) (٤) سئل عن (المرضعة) (٥) ترضع الصبي الرضعة، فقال: إذا (عقا) (٦) الصبي حرمت عليه وما ولدت (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر عورت کسی بچے کو ایک چسکی دودھ پلائے تو کیا اس سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب بچے نے منہ لگا لیا تو وہ عورت اور اس کی بیٹیاں اس کے لئے حرام ہوگئیں۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، س، ز، ط، ك، هـ].
(٢) في [س، هـ]: زيادة (عن).
(٣) في [ط]: (عياش).
(٤) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: زيادة (و).
(٥) في [س]: (مرضعه)، وفي [جـ]: (المرأة).
(٦) أي ترك الصبي الثدي، وفي [هـ، س، أ، جـ]: (عفا).