مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
من قال: تعتد وتزوج ولا تربص باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ شوہرکے گم ہوجانے کی صورت میںوہ عدت گزارکر نکاح کرسکتی ہے انتظار نہیںکرے گی
حدیث نمبر: 17553
١٧٥٥٣ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن يحيى بن جعدة أن رجلًا (انتسفته) (١) الجن على عهد (عمر) (٢) (فأتت امرأته عمر) (٣) فأمرها أن تربص أربع سنين ثم أمر وليه بعد أربع سنين أن يطلقها ثم أمرها أن تعتد فإذا انقضت ⦗٣٥٨⦘ عدتها تزوجت، فإن جاء زوجها خير بين امرأته والصداق (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص کو جن اٹھا کرلے گئے۔ اس کی بیوی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ساری صورت حال بتائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ چار سال انتظار کرے۔ چار سال بعد خاوند کے ولی کو حکم دیا کہ وہ عورت کو طلاق دے دے۔ پھر عورت کو عدت گزارنے کا حکم دیا۔ جب عدت پوری ہوجائے تو وہ شادی کرسکتی ہے اور اگر اس کا خاوندواپس آجائے تو مرد کو بیوی اور مہر میں سے ایک چیز کا اختیار دیا جائے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (انتسعته)، وفي [هـ]: (استهوته)، وفي [ط]: (اسفينه)، وفي [س]: (اسقينه).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) سقط من: [س].
(٤) منقطع؛ يحيى بن جعدة لم يدرك عمر.