حدیث نمبر: 17133
١٧١٣٣ - حدثنا أبو داود عن حماد بن (سلمة) (١) عن عمران بن عبد اللَّه عن سالم قال له رجل: إني رأيت مع (امرأتي) (٢) رجلًا، (فقال) (٣): تطيب نفسك أو كيف تطيب نفسك إن (تمسكها) (٤) وقد رأيت ما رأيت (ولم) (٥) تحرم عليك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سالم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ دیکھنے کے بعد اب اس کے ساتھ تمہارا معاملہ درست کیسے رہ سکتا ہے ؟ حضرت سالم نے اس عورت کو مرد پر حرام قرار نہیں دیا۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (مسلمة).
(٢) في [س]: (آتي).
(٣) في [س، ط، هـ]: (قال).
(٤) في [س]: (يمسك).
(٥) في [س]: (لم)، وفي [أ، ب]: (ولا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17133
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17133، ترقيم محمد عوامة 16599)