مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
المرأة يتزوجها الرجل ولها بركل أو جذام فيدخل بها باب: اگر آدمی کسی عورت سے شادی کرے اورپھر اسے کوڑھ یا پھلبہری ہونے کا پتہ چلے ، اور وہ اس سے دخول کرلے تو کیاحکم ہے؟
حدیث نمبر: 17083
١٧٠٨٣ - حدثنا ابن علية عن خالد أن رجلًا (تزوج) (١) امرأة فدخل بها ثم وجد بها عيبًا فكتب إلى عمر بن عبد العزيز في (ذلك) (٢)، فكتب (له) (٣) أنه قد (ائتمنهم) (٤) على ما هو أعظم من ذلك فأجازها عليه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی، پھر اس میں کوئی عیب معلوم ہوا۔ تو اس بارے میں اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا۔ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ اس عورت کو اپنے پاس ہی رکھو۔
حواشی
(١) في [س]: (أتزوج).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ز، ك]: (له).
(٤) في [أ، ب]: (اهتم)، وفي [س، هـ]: (أتمهم)، وفي [ص]: (اكتبهم).