مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في فسخ الحج أفعله النبي ﷺ باب: حج کو فسخ کرنا، کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے؟
١٦٥١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن جابر أن النبي ﷺ قال: "إني لو استقبلت من أمري ما استدبرت، لم أسق الهدي وجعلتها عمرة، فمن كان منكم ليس معه هدي فليحل"، [(ويجعله (١) (١) عمرة، فقام سراقة فقال: يا رسول اللَّه ألعامنا هذا (أو للأبد) (٢)، فشبك رسول اللَّه ﷺ ⦗١٢٢⦘ أصابعه (واحدة) (٣) في الأخرى، وقال: دخلت العمرة في الحج (لأبد الأبد) (٤) " (٥).حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب میں کسی کام کے لیے چلتا ہوں تو پھر اس سے منہ نہیں پھیرتا، میں نے ھدی کو نہیں ہانکا تھا میں نے اس کو عمرہ بنادیا ہے، پس تم میں سے جن کے پاس ھدی نہ ہو وہ حلال ہوجائیں اور اس کو عمرہ بنالیں، حضرت سراقہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک انگلیاں ایک دوسری میں داخل فرمائی اور فرمایا، عمرہ کو حج میں داخل کردیا گیا ہے۔ نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔