١٦٣٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام عن مخارق عن طارق قال: خرجنا حجاجًا، حتى إذا كنا ببعض الطريق أوطأ رجل منا ضبًا فقتله وهو محرم، فأتى عمر ابن الخطاب ليحكم عليه، فقال له عمر: احكم معي فحكما فيه جديًا قد جمع الماء والشجر، ثم قال عمر: ﴿يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ [المائدة: ٩٥] (١).حضرت طارق فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حج کے لیے گئے، جب ہم راستے میں تھے تو ہم میں سے ایک شخص نے جو حالت احرام میں تھا گوہ کو پاؤں تلے کچل دیا، پھر حضرت عمر کے پاس آیا تاکہ آپ اس کے متعلق فیصلہ فرمائیں، حضرت عمر نے اس سے فرمایا میرے ساتھ ایک اور فیصل لے آؤ۔ پس دونوں نے ایسی بکری کا فیصلہ کیا جس نے پانی اور درخت کو جمع کیا ہو (یعنی چرتی ہو اور پانی پیتی ہو اتنی چھوٹی نہ ہو کہ صرف دودھ پر گزرا کرتی ہو) ۔ پھر حضرت عمر نے آیت مبارکہ تلاوت فرمائی کہ { یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ }، (تم میں سے دو عادل لوگ فیصلہ کریں) ۔