حدیث نمبر: 16014
١٦٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن عبيد (اللَّه) (٢) بن عمر عن نافع (أن) (٣) أم سلمة بنت المختار (٤) كانت تحت ابن لعبد اللَّه بن عمر (فولدت) (٥) بالمزدلفة فتخلفت معها صفية، فلم (تضع) (٦) ليلتها تلك ومن الغد، ثم جاءتا منى (من الليل) (٧) فرموا الجمرة فلم ينكر ذلك عليهما عبد اللَّه، ولم يأمرهم أن يقضوا شيئًا (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ بنت المختار حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے کی اہلیہ تھیں، انہوں نے مزدلفہ میں بچہ جنا، حضرت صفیہ ان کے ساتھ وہ رات اور اگلے دن کی رات وہاں پیچھے ہی رکی رہیں، پھر وہ دونوں رات کو منیٰ آئیں اور رمی کی، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے اس عمل پر کوئی نکیر نہ فرمائی اور نہ ہی ان کو کسی چیز کے قضا کرنے کا حکم فرمایا۔

حواشی
(١) في [ط]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [ب]: (عبيد).
(٣) في [س، هـ]: (عن).
(٤) في [س، هـ]: زيادة (و).
(٥) في [هـ]: (ولدت).
(٦) في [س، ز]: (تصنع).
(٧) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16014
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16014، ترقيم محمد عوامة 15553)