حدیث نمبر: 15853
١٥٨٥٣ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: حدثنا جرير عن ليث عن يحيى بن (عباد) (٢) - (أبي) (٣) هبيرة- قال: كتبت امرأة من أهل الري إلى إبراهيم أنها موسرة وليس لها بعل ولا محرم ولم تحج قط، فكتب إليها إبراهيم: إن هذا من السبيل الذي قال اللَّه وليس لك محرم، فلا تحجي إلا مع بعل أو محرم.
مولانا محمد اویس سرور

اھل الری کی ایک خاتون نے ابراہیم کو لکھا کہ وہ مالدار ہے اور اس کا شوہر بھی نہیں ہے اور کوئی محرم بھی نہیں ہے اور اس نے آج تک حج بھی نہیں کیا ہوا، ابراہیم نے اس کو لکھ کر بھیجا کہ : بیشک یہ وہ راستہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور تیرے پاس کوئی محرم بھی نہیں ہے، تو شوہر اور محرم کے سوا ہرگز حج نہ کر۔

حواشی
(١) في [ط]: (أخبرنا).
(٢) في [ز]: (غياث)، وفي [خ]: (عتاب).
(٣) في [ن]: (أي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15853
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15853، ترقيم محمد عوامة 15400)