مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان يأمر بتعليم المناسك باب: جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
١٥٣٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: دخلنا على جابر بن عبد اللَّه (فسأل عن القوم؟) (١) حتى انتهى إليَّ فقلت: أنا محمد ⦗٤٠٨⦘ ابن علي بن حسين، فأهوى بيده إلى رأسي فنزع (زري) (٢) الأعلى، ثم نزع (زري) (٣) الأسفل، ثم وضع (كفه) (٤) بين (ثديي) (٥) وأنا يومئذ غلام شاب فقال: مرحبا بك يا ابن أخي سل عم شئت، فسألته وهو أعمى وجاء وقت الصلاة، (فقام في نساجة) (٦) ملتحفا بها، كلما وضعها على منكبه رجع طرفاها إليه من صغرها، ورداؤه إلى جنبه على المشجب، فصلى بنا فقلت: أخبرني عن حجة رسول اللَّه ﷺ. فقال (بيده) (٧) فعقد تسعًا (فقال) (٨): إن رسول اللَّه ﷺ مكث تسع سنين (لا) (٩) يحج ثم أذن في الناس (بالحج) (١٠) في العاشرة: أن رسول اللَّه ﷺ حاج، فقدم المدينة بشر كثير كلهم يلتمس أن يأتم برسول اللَّه ﷺ ويعمل مثل عمله، فخرجنا معه حتى أتينا ذا الحليفة، فولدت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر، فأرسلت إلى رسول اللَّه ﷺ (في المسجد) (١١) كيف أصنع؟ (قال) (١٢): اغتسلي واستذفري بثوب وأحرمي. فصلى رسول اللَّه ﷺ (١٣) في ⦗٤٠٩⦘ المسجد (فركب) (١٤) (القصواء) (١٥) حتى إذا استوت به (راحلته) (١٦) على البيداء نظرت إلى مدى بصري من بين يديه من راكب وماش، وعن يمينه مثل ذلك (وعن يساره مثل ذلك، ومن خلفه مثل ذلك) (١٧) ورسول اللَّه ﷺ (بين أظهرنا) (١٨) وعليه ينزل القرآن وهو يعرف تأويله (وما) (١٩) عمل به من شيء عملنا به، فأهل بالتوحيد: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك" وأهل الناس بهذا الذي يهلون به، (فلم يرد عليهم رسول اللَّه ﷺ) (٢٠) شيئًا (منه) (٢١) ولزم رسول اللَّه ﷺ تلبيته، وقال جابر: [لسنا (ننوي) (٢٢) إلا الحج] (٢٣)، لسنا نعرف العمرة حتى إذا أتينا البيت معه استلم الركن (فرمل) (٢٤) ثلاثًا ومشى أربعًا، ثم (نفذ) (٢٥) إلى مقام إبراهيم فقرأ: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [البقرة: ١٢٥]، فجعل المقام بينه وبين البيت (٢٦).حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نے لوگوں سے سوال کرنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس پہنچ گئے، میں نے عرض کیا کہ میں محمد بن علی رضی اللہ عنہ بن حسین ہوں، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، پھر میرا اوپر والا بٹن کھولا اور پھر اس کے نیچے والا بٹن کھولا اور اپنا ہاتھ مبارک میرے سینہ پر رکھا میں اس وقت نوجوان تھا، فرمایا اے میرے بھتیجے آپ کو خوش آمدید، پوچھ جو پوچھنا چاہتا ہے ؟ میں نے ان سے دریافت کیا اس حال میں کہ وہ نابینا تھے، (اتنے میں) نماز کا وقت ہوگیا تو وہ بےسلہ ہوا کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہوگئے، جب بھی اس کو کندھے پر ڈالتے تو وہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کے کونے واپس ان کی طرف آتے، اور ان کی چادر ہینگر پر لٹکی ہوئی تھی، پھر انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی، (نماز کے بعد) میں نے عرض کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں ؟ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے نو کا عدد بنایا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو سال تک بغیر حج کیے مدینہ منورہ میں رہے، پھر دس ہجری کو لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں، (یہ سن کر) بہت سارے لوگ مدینہ منورہ آنا شروع ہوگئے ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا سفر کرے اور آپ کے عمل کی طرح عمل کرے، پھر ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں پیغام بھیجا کہ میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : غسل کرلو اور (شرم گاہ) پر کپڑا باندھ لو اور پھر احرام باندھ لو۔ C آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھائی اور پھر قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہوگئے، پھر جب آپ کی اونٹنی مقام بیدا پر پہنچی تو میں نے اپنے آگے دیکھا لوگوں کو جن میں کچھ سوار اور کچھ پیدل ہیں، اور داہنی طرف بھی اسی طرح اور بائیں طرف بھی اسی طرح اور پیچھے بھی اسی طرح اس حال میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان تھے اور آپ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور وہ اس کی تفسیر جانتے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی عمل نہیں کیا مگر ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ عمل کیا، پھر توحید کا تلبیہ پڑھا (جس کے الفاظ یہ ہیں) ، لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ، لاَ شَرِیکَ لَکَ لوگوں نے بھی انہی الفاظ کے ساتھ تلبیہ پڑھا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر کسی بات کو رد نہ فرمایا اس میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ کو لازم فرمایا۔ جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے صرف حج کی نیت کی ہوئی تھی ہمیں عمرے کے بارے میں معلوم نہ تھا، یہاں تک کہ جب ہم لوگ بیت اللہ آئے رکن کا استلام کیا اور طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر چل کر پورے کیے پھر مقام ابراہیم کے بارے میں حکم نافذ کیا اور قرآن پاک کی آیت { وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی } تلاوت فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ابراھیم کو اپنے اور بیت اللہ درمیان رکھا، میرے والد فرماتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا ذکر کیا ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت فرمائی دو رکعتوں میں { قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، قُلْ ٰٓیاََیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن کی طرف لوٹے اور اس کا استلام فرمایا : پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے پھر جب آپ صفا کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ } تلاوت فرمائی (اور فرمایا کہ) میں اس سے ابتداء کروں گا جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتداء کی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا (جو نظر آ رہا تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور ان الفاظ میں اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، أَنْجَزَ وَعدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ پھر اس کے درمیان دعا فرمائی پھر اسی طرح (یہی دعا) تین بار مانگی۔ E پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ ع