حدیث نمبر: 15336
١٥٣٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن التيمي عن أبي (مجلز) (١) قال: كان مع ابن عمر فلما طلعت الشمس أمر براحلته فرحلت، وارتحل ⦗٤٠٥⦘ من منى (فسار) (٢)، قال: (فإن) (٣) كان (لأعجبنا) (٤) إليه (اسفهنا) (٥) رجل كان يحدثه عن النساء ويضحكه، قال: فلما صلى العصر وقف بعرفة فجعل يرفع يديه أو قال: يمد، قال: ولا أدري لعله قد قال: دون أذنيه -وجعل يقول: اللَّه أكبر وللَّه الحمد اللَّه أكبر وللَّه الحمد (اللَّه أكبر وللَّه الحمد) (٦) لا إله إلا اللَّه وحده له الملك وله الحمد، اللهم اهدني بالهدى (وقني) (٧) بالتقوى واغفر لي في الآخرة والأولى، ثم يرد يديه فيسكت كقدر ما كان إنسان قارئا بفاتحة الكتاب، ثم يعود فيرفع يديه ويقول مثل ذلك، فلم يزل يفعل ذلك حتى أفاض، قال: فكان سيره إذا رأى سعة العنق، وإذا رأى (مضيقًا) (٨) أمسك، وإذا أتى جبلًا من تلك الجبال وقف عند كل جبل منها (كقدر) (٩) ما أقول أو يقول القائل (وقفت) (١٠) يداها ولم تقف رجلاها (قال) (١١)، ثم نزل نزلة بالطريق فانطلق واتبعته فقلت: لعله يفعل شيئًا من السنة، فقال: إنما أذهب حيث تعلم فجاء فتوضأ على رسله ثم ركب، ولم يصل حتى أتى جمعًا فأقام فصلى المغرب ثم (انفتل) (١٢) إلينا فقال: الصلاة جامعة (ولم يتجوز بينهما ⦗٤٠٦⦘ بشيء، قلت: ولم يكن بينهما إقامة إلا قوله: الصلاة جامعة) (١٣) أو قال: أذان إلا (ذاك) (١٤)؟ قال: لا، ثم صلى العشاء ركعتين فصلى خمس ركعات للمغرب والعشاء (ولم) (١٥) يتطوع (أو قال) (١٦) الم) (١٧) يتجوز بينهما بشيء، [ثم دعا بطعام فقال: من كان يسمع صوتنا فليأتنا، قال: كأنه يرى أن (ذاك كذاك) (١٨) (ينبغي) (١٩)، (٢٠)، ثم باتوا ثم صلى بنا الصبح (بسواد) (٢١) و (ليس) (٢٢) في السماء (نجم) (٢٣) أعرفه (إلا) (٢٤) أراه، وقرأ بعبس وتولى ولم يقنت قبل الركوع ولا بعده، ثم وقف فذكر من دعائه في هذا الموقف كما فعل في موقفه بالأمس، ثم (أمضى) (٢٥) سيره إذا رأى سعة: العنق وإذا رأى مضيقا أمسك (٢٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، جب سورج طلوع ہوا تو انھوں نے سواری کا حکم فرمایا تو ان کے لیے سواری لائی گئی اور وہ منیٰ سے اس پر سوار ہو کر چل پڑے، راوی فرماتے ہیں کہ پس اگر کوئی بات ہمیں عجیب لگتی تھی تو وہ ہماری نادانی کی وجہ سے تھی، ایک شخص تھا جو ان سے خواتین کے متعلق باتیں کرتا تھا اور ان کو ہنساتا تھا، راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ نے نماز عصر ادا کی تو وقوف عرفہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، یا پھر فرمایا کہ ہاتھوں کو پھیلایا، راوی فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ شاید یوں کہا ہو کہ کانوں سے نیچے تک اٹھایا اور یہ پڑھنے لگے : اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، اللَّہُمَّ اہْدِنِی بِالْہُدَی ، وَقِنِی بِالتَّقْوَی ، وَاغْفِرْ لِی فِی الآخِرَۃِ وَالأُولَی ، پھر اپنے ہاتھ نیچے کرلیے اور اتنی دیر خاموش رہے جتنی دیر میں کوئی شخص سورة الفاتحہ پڑھ لیتا ہے پھر لوٹے اور ہاتھوں کو بلند کیا اور پھر وہ دعائیں مانگیں، پھر آپ مسلسل اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ آپ منیٰ کی طرف لوٹ گئے۔ راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ کھلی جگہ دیکھتے تو تیز چلتے اور جب جگہ کی تنگی کو دیکھتے تو رک جاتے، پھر ان پہاڑیوں میں سے کسی پہاڑ پر آتے تو ہر پہاڑ پر اتنی دیر کھڑے ہوتے جتنی دیر میں کوئی شخص یوں کہے : اس کے ہاتھ رک گئے ہیں لیکن اس کی ٹانگیں نہیں رکیں، راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ راستے میں اترے اور پھر چل پڑے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، میں نے کہا کہ شاید وہ سنت کاموں میں سے کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ میں بیشک گیا ہوں اس طور پر کہ تمہیں تعلیم دوں، پھر آپ آئے اور آہستہ اور توقف کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ سواری پر سوار ہوگئے اور مزدلفہ آنے تک نماز نہیں پڑھی، پھر وہاں پر آپ نے مغرب کی نماز ادا کی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : الصلاۃ جامعۃ کہ نماز مشترکہ ہے اس کے درمیان کسی چیز سے تجاوز نہ کیا جائے (نفل نہ پڑھے جائیں) ۔ C میں نے عرض کیا کہ ان کے درمیان (دو نمازوں کے) اقامت نہ ہو سوائے اس قول کے کہ الصلاۃ جامعۃ ؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر عشاء کی دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے لیے پانچ رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان نفل ادا نہیں کیے، پھر کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ جو ہماری آواز سن رہا ہے پس وہ ہمارے پاس آجائے، راوی فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسی طرح کرنا مناسب ہے، پھر وہاں پر آپ نے رات گزاری، پھر آپ نے ہمیں فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھائی کہ آسمان پر کوئی ستارہ موجود نہ تھا جس کو دیکھا جاتا، اور سورة عبس وتولٰی تلاوت فرمائی اور قنوت نہیں پڑھی نہ رکوع سے پہلے نہ بعد میں، پھر ٹھہرے رہے اور اس جگہ کی دعائیں ذکر فرمائیں جیسا کہ گذشتہ دن عرفات میں ذکر کیں تھیں، پھر آپ چل پڑے، آپ اس طرح چل رہے تھے کہ اگر وسعت دکھیتے تو تیز چلتے اور جب تنگی دیکھتے تو ٹھہر جاتے۔ E راوی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی کہ بیشک وہ وادی جو منیٰ کے سامنے ہے جس کو وادی محسّر کہا جاتا ہے وہاں پر اترا جائے گا۔ F پھر جب اس پر آئے تو اپنے پاؤں سے سواری کو ایڑی لگائی تو میں سمجھ گیا کہ وہ تیز چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں انھوں نے سواری کو تھکا دیا، تو میں نے اپنی سواری کو تیز دوڑایا۔ پھر انھوں نے جمرہ کی رمی فرمائی پھر اگلے دن بھی جمرہ کی رمی کی، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ مجھ سے کہا زوال سے عصر تک (رمی کرو) پھر آگے ہوئے یہاں تک کہ وہ جمرہ اولیٰ اور دوسرے جمرہ کے درمیان ہوگئے، پھر دعاؤں کا ذکر کیا جس طرح (پیچھے) دو جگہوں پر (موقفین میں) ذکر کیا تھا، مگر اس دعا میں ان الفاظ کا بھی اضافہ کیا کہ وأصلح لی یا واتمم لنا مناسکنا، راوی کہتے ہیں کہ اس جگہ اتنی دیر ٹھہرے جتنی دیر میں کوئی شخص سور v ہ یوسف کی تلاوت کرلے پھر درمیانے جمرہ کی رمی کی پھر اسی طرح دعاؤں کا ذکر کیا اور اسی طرح اتنی دیر قیام کیا۔ G راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم یا حضرت نافع سے دریافت کیا کہ وہ خاموشی میں بھی کچھ پڑھا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ سنت میں تو کچھ نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [ن]: (حجاز).
(٢) في [أ، ب، ز]: (فصار).
(٣) في [ب، ن]: (فإنه).
(٤) في [ب، ن]: (عجيبًا).
(٥) في [ز]: (سفهنا).
(٦) سقط من: [ب، ن].
(٧) في [جـ، ز]: (وقني)، وفي [أ، ب، ن]: (ووفقني).
(٨) في [ن]: (مضيفًا)، وفي [أ، جـ، ز]: (مضيق).
(٩) في [ب، ن]: (بقدر).
(١٠) سقط من: [ب، ن].
(١١) زيادة في: [جـ].
(١٢) في [ص]: (القتل).
(١٣) سقط من: [أ، ب، ن].
(١٤) في [أ، جـ]. (ذاك)، وفى [ز]: (ذواك).
(١٥) في [أ، جـ، ص، ز]: (لم).
(١٦) في [ص]: (وقال).
(١٧) سقطت من: [ز].
(١٨) في [ز]: (ذاك كذلك)، وفي [جـ]: (ذلك كذلك).
(١٩) في [س]: (سعى).
(٢٠) سقط ما بين المعكوفين من: [ص].
(٢١) في [أ]: (بسوار)، وفي [ن]: (بسور)، وفي [ص]: (براد).
(٢٢) سقط من: [ن].
(٢٣) في [ز]: (نجم).
(٢٤) في [ن]: (لا).
(٢٥) في [ن]: (أفضى)، وفي [أ، جـ، ز]: (أفاض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15336
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15336، ترقيم محمد عوامة 14924)