مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في رجل أصاب صيدا فأهدى شاة باب: اگر محرم شکار کر لے تو وہ بکری کی قربانی کرے
حدیث نمبر: 15015
١٥٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه قال: كنت عند ابن عباس، فأتاه رجل فقال: إني أهديت بدنة وإني أضللتها بالطريق فهل (يجزيء) (١) عني؟ (فقال) (٢): إن كانت في نذر أو في كفارة (فوافِ) (٣) بها البيت، فلا إخالك وافيت بها، وإن كانت (تطوعا) (٤) (لأجزأت عنك) (٥)، قال: قلت: فيه ولو شاة؟ قال: نعم (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے اونٹ کی ھدی بھیجی تھی، میں نے اس کو راستے میں گم کردیا، تو کیا وہ اونٹ میری طرف سے کافی ہوجائے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ نذر یا کفارہ کی تھی تو پھر اس کو پورا کر بیت اللہ میں وہ تیری طرف سے پوری ادا نہ ہوئی، اور اگر وہ نفل قربانی تھی تو پھر ادا ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ : اس میں اگرچہ بکری ہو ؟ آپ نے ارشاد فرمایا ہاں اگرچہ بکری ہی ہو۔
حواشی
(١) في [ص]: (تجزي).
(٢) في] جـ، ص]: (قال).
(٣) في [جـ]: (فوافه)، وفي [أ، ب، ن]: (فوافي).
(٤) سقط من: [ز]، وفي [جـ، ص]: (لا جزءت عنك).
(٥) سقط من: [أ، ب، ز، ن].