مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان يستحب أن يحرم في دبر الصلاة باب: جو حضرات یہ پسند کرتے ہیں کہ نماز کے بعد احرام باندھا جائے
حدیث نمبر: 13185
١٣١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) ابن فضيل عن عبد الملك قال: سألت ⦗٤٢٨⦘ عطاء عن التلبية إذا أراد الرجل (٢) يحرم قال: إن شئت ففي دبر الصلاة، وإن شئت فإذا (انبعثت) (٣) بك (النافة) (٤) (تبدأ) (٥) حين تركب (فتقول) (٦): ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كنا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [الزخرف: ١٣].مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ جب کوئی شخص احرام باندھنے کا ارادہ کرے تو وہ تلبیہ کب پڑھے ؟ آپ نے فرمایا اگر چاہے تو فرض نماز کے بعد، اور اگر چاہے تو جب اس کی سواری لائے جائے اور جب آپ سوار ہونے لگے تو ابتداء کرو اور یوں کہو : { سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ }۔
حواشی
(١) في [جـ، ص]: (نا).
(٢) في [ف]: زيادة (أن).
(٣) في [ب، ن]: (سعت).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) سقط من: [ن].
(٦) في [ب]: (فيقول)، وفي [ص]: (فنقول).