حدیث نمبر: 13074
١٣٠٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن عمرو عن (مرداس) (١) بن عبد الرحمن الليثي قال: دخلنا على عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) فحدثنا قال: ما من أحد يهل إلا قال اللَّه له: أبشر فقال مرداس يا أبا (محمد) (٣): فواللَّه ما يبشر (اللَّه) (٤) إلا بالجنة قال: من أنت يا ابن أخي قال: أنا مرداس قال: (قد) (٥) كان خيارنا (يتتابعون) (٦) على ذلك (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرداس بن عبد الرحمن اللیثی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ نے بیان کیا جو شخص حج میں تہلیل کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرماتے ہیں اس کو خوشخبری دے دو ، حضرت مرداس کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابو محمد ! اللہ کی قسم اللہ کی بشارت جنت کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے، آپ نے فرمایا : بھتیجے تو کون ہے ؟ میں نے عرض کیا مرداس، آپ نے فرمایا : ہمارے بڑے (جو ہم سے بہتر تھے) اسی پر موافقت فرماتے تھے۔
حواشی
(١) في [ز]: (مرًا داس).
(٢) في [أ، ب، ن]: (عمر).
(٣) في [ن]: (أحمد).
(٤) سقط من: [ن، ف].
(٥) زيادة في [جـ، ص، ز]: (قد).
(٦) في [أ، ن، ص]: (يتبايعون).