حدیث نمبر: 13068
١٣٠٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن مجاهد قال: بينما عمر جالسًا عند البيت إذ قدم رجال من العراق حجاجًا فطافوا بالبيت (وسعوا) (١) بين الصفا والمروة فدعاهم عمر، فقال: أنهزكم (إليه) (٢) غيره، فقالوا: لا، (فقال) (٣): (أنقَبتُم) (٤) قالوا: نعم فقال: (أدبرتم) (٥)، ثم قالوا: نعم، ⦗٣٩٨⦘ (قال) (٦): أما لا، فاستأنفوا العمل (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بیت اللہ کے پاس تشریف فرما تھے کہ عراق سے کچھ لوگ حج کے لیے آئے اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرنے لگے، حضرت عمر نے ان کو بلایا اور ان سے پوچھا : کیا تمہیں حج کے علاوہ کسی اور عمل نے بیت اللہ کی طرف نکالا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں، آپ نے دریافت فرمایا : کیا تمہارے اونٹوں کے کھر لمبے سفر کی مشقت کی وجہ سے گھس گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں، آپ نے دریافت فرمایا : کیا تمہارے اونٹوں کی پیٹھیں زخمی ہوگئی ہیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا : اگر تمہارا جواب ہاں میں ہے تو تم عمل لے کر لوٹے (اور اگر تمہارا نہیں میں ہوتا تو تم لوگ خسارے میں تھے) ۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (وطافوا).
(٢) في [ن]: (للَّه).
(٣) في [ب]: (يقال).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (أبقيتم).
(٥) في [أ، جـ، ص، ز]: (أدبر)، وفي [ب، ن]: (أدهر، ثم).
(٦) في [ص]: (قالوا).
(٧) منقطع ضعيف؛ مجاهد لم يدرك عمر، وعطاء اختلط.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13068
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13068، ترقيم محمد عوامة 12787)