مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
الرجل يحلف أن لا يكلم الرجل حينا كم يكون ذلك باب: کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے؟
حدیث نمبر: 12878
١٢٨٧٨ - حدثنا عبد الرحيم عن عبد الرحمن بن حرملة قال: سمعت سعيد ابن المسيب وسأله رجل فقال: إني حلفت (على امرأتي أن لا تدخل) (١) على أهلها حينًا فقال: الحين ما بين أن يطلع النخل إلى أن يثمر، وما بين أن يثمر إلى أن يطلع، فقال (له) (٢) سعيد: ﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً﴾ [إبراهيم: ١٢٤] إلى قوله: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا﴾.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حرملہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ اپنی بیوی سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا ؟ آپ نے فرمایا الحین سے مراد کھجور ظاہر ہو کر پکنے تک کا درمیانی وقت ہے اور پک کر ظاہر ہونے تک کا درمیانی وقت ہے، حضرت سعید نے اس سے فرمایا : { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً } سے لے کر { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } تک تلاوت فرمائی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، ن]: (أن لا تدخل امرأتي).
(٢) سقط من: [ن].