مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
في الرجل يجعل عليه النذر إلى الموضع (ينحر) فيه أو يصلي أو يمشي إليه باب: کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
حدیث نمبر: 12842
١٢٨٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن حبيب المعلم عن عطاء عن (جابر) (١) أن رجلًا نذر أن يصلي في بيت المقدس، (فسأل) (٢) عن ذلك رسول اللَّه ﷺ فقال له (رسول اللَّه ﷺ) (٣): "صل هنا" يعني في المسجد الحرام، فأعاد عليه ثلاثًا، قال: "فصل حيث (قلت) (٤) " (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بیت المقدس میں نماز ادا کرے گا، پھر اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : یہیں پر نماز ادا کر، یعنی مسجد حرام میں اس نے تین بار اس کو دھرایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جہاں میں نے کہا ہے وہاں نماز ادا کر۔
حواشی
(١) في [ص]: (حماد).
(٢) في [ن]: (فسأله).
(٣) في [أ، جـ، ص، ز]: زيادة (رسول اللَّه ﷺ).
(٤) في [ن، و]: (قدرت).