مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
في ولد الزني يجزئ في الرقبة أم لا؟ باب: ولد الزنی غلام ادا کرنا کافی ہو جائے گا کہ نہیں؟
حدیث نمبر: 12627
١٢٦٢٧ - حدثنا حفص عن محمد بن إسحاق وعبد اللَّه بن (سعيد) (١) عن سعيد ابن أبي سعيد أتت امرأة أبا هريرة فسألته عن ابن جارية لها من غير رشدة وعليها رقبة، أيجزئها؛ قال: نعم (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابو سعید فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور دریافت کیا کہ میرے پاس ایک لونڈی کا بیٹا ہے جو صحیح النسب نہیں ہے اور میرے ذمہ غلام آزاد کرنا واجب ہے کیا وہ غلام آزاد کرنا کافی ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں
حواشی
(١) في [ز]: (سعد).
(٢) طريق ابن إسحاق منقطع حكمًا؛ لأنه مدلس، وطريق عبد اللَّه ضعيف جدًا؛ لأنه متروك.