حدیث نمبر: 12388
١٢٣٨٨ - حدثنا حسين بن علي (عن) (١) زائدة عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد اللَّه قال: مات رجل (فأتينا) (٢) رسول اللَّه ﷺ ليصلي عليه، فخطا خطى ثم قال: "عليه دين؟ ". (قلنا) (٣): نعم (عليه) (٤) ديناران، قال: "صلوا على صاحبكم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا اس کے ذمہ قرض ہے ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں اس کے ذمہ دو دینار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی ادا کرو۔

حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [ص]: (فأتيت).
(٣) في [ص]: (فقلنا).
(٤) سقط من: [ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12388
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عبد اللَّه بن محمد بن عقيل الصواب أنه ضعيف، أخرجه الطيالسي (١٦٧٣)، وأحمد (١٤٥٣٦)، والطحاوي في المشكل (٤١٤٥)، والحاكم ٢/ ٥١، والبيهقي ٦/ ٧٤، وابن غطريف (٢٦)، وابن بشكوال ٥/ ٣٤٢، والدارقطني ٣/ ٧٩، وأصله عند أبي داود (٣٣٤٣)، والنسائي ٤/ ٦٥، وابن حبان (٣٥٦٤)، وعبد الرزاق (١٥٢٥٧)، وعبد بن حميد (١٠٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12388، ترقيم محمد عوامة 12143)