مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الميت يصلى عليه بعد ما دفن من فعله باب: میت کو دفنانے کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کرنا، کس نے اس طرح کیا ہے؟
حدیث نمبر: 12295
١٢٢٩٥ - [حدثنا هشيم أخبرنا عثمان بن حكيم أخبرنا خارجة بن زيد عن عمه يزيد بن ثابت وكان أكبر من زيد قال: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ فلما وردنا البقيع إذا هو بقبر جديد (فسأل) (١) عنه فقالوا: فلانة، فعرفها فأتى القبر وصففنا خلفه فكبر عليها أربعًا (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خارجہ بن زید اپنے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک بار نکلے جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں ایک نئی قبر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا فلاں خاتون کی قبر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پہچانا اور اس کی قبر کے پاس آئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں، (نماز جنازہ ادا فرمائی) ۔
حواشی
(١) في [أ]: (فسألوا).
(٢) منقطع؛ خارجة لم يسمع من عمه يزيد، أخرجه أحمد (١٩٤٥٢)، والنسائي ٤/ ٨٤، وابن ماجه (١٥٢٨)، وابن حبان (٣٠٨٧)، والحاكم ٣/ ٥٩١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٧٠)، وأبو يعلى (٩٣٧)، وابن قانع ٣/ ٢٢٨، والطبراني ٢٢/ ٦٢٨، والبيهقي ٤/ ٣٥، وابن الأثير ٥/ ٤٨٠.