مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يصلي على الجنازة (أله) (أن لا) يرجع حتى يؤذن له باب: کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اسکو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے؟
حدیث نمبر: 11885
١١٨٨٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ثور عن محفوظ (بن) (١) علقمة عن (عبد اللَّه) (٢) عن أبي هريرة قال: أميران (وليسا) (٣) (بآمرين) (٤): المرأة تكون مع الرفقة فتحج أو تعتمر فيصيبها أذى من الحيض، قال: لا (ينفروا) (٥) حتى تطهر ⦗٦٥⦘ وتأذن لهم، والرجل يخرج مع الجنازة لا يرجع حتى يؤذن له أو يدفنوها أو يواروها (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو امیر ایسے ہیں جو حقیقت میں امیر نہیں ایک وہ عورت جو کسی جماعت کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے جائے اور وہ حائضہ ہوجائے اب وہ جماعت اس وقت کوچ نہیں کرسکتی جب تک وہ پاک نہ ہوجائے یا ناپاکی کی حالت میں انہیں چلے جانے کی اجازت نہ دے دے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو کسی جنازے کے ساتھ چلا جائے اب وہ اس وقت تک واپس نہیں جاسکتا جب تک کہ اس کو اجازت نہ مل جائے یا جب تک میت کو دفن نہ کردیا جائے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) في [ز]: (عبد الملك)، وهكذا في [ص].
(٣) في: [ص]: (وليا).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (بأميرين).
(٥) في [أ]: (تنفر)، وفي [هـ]: (تنفروا).
(٦) عبد اللَّه لم أعرفه، وانظر العلل للدارقطني ١١/ ١٨٢، وفتح الباري ٣/ ٥٩٠ وعمدة القاري ٨/ ١٢٦ و ١/ ٩٩٠، وضعفاء العقيلي ٣/ ٢٨٧، وبيان الوهم ٣/ ١٦٤ و (٤١٦) وسبل السلام ٢/ ١٠٦.