حدیث نمبر: 11781
١١٧٨١ - حدثنا أبو معاوية عن الهجري قال: صليت مع عبد اللَّه بن أبي أوفى على جنازة فكبر عليها أربعًا، ثم قام (هنيهة) (١) حتى ظننت أنه (يكبر) (٢) خمسًا، ثم سلم فقال: أكنتم ترون أني أكبر خمسًا؛ (إنما) (٣) قمت كلما رأيت رسول اللَّه ﷺ قام (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت الھجری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، آپ نے اس میں چار تکبیرات پڑھیں ، پھر تھوڑی دیر کھڑے رہے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر آپ نے سلام پھیرا اور فرمایا : کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا ؟ میں اسی طرح کھڑا رہا جس طرح میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑا دیکھا۔

حواشی
(١) في [ص]: (هنينه).
(٢) في [ص]: (كبر).
(٣) في [ص]: (إني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11781
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف بم الهجري ضعيف، أخرجه أحمد (١٩١٤٠) والحاكم (١/ ٣٥٩) وعبد الرزاق (٦٤٠٤) وا بن ماجة (١٥٠٣)، والحميدي (٧١٨)، والطيالسي (٨٢٥)، والطحاوي ١/ ٤٩٥، وابن عدي ١/ ٢١٥، والبيهقي ٤/ ٣٦، والطبراني في الصغير (٢٦٨) وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11781، ترقيم محمد عوامة 11558)