مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما قالوا في التكبير على الجنازة من كبر أربعا باب: بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
حدیث نمبر: 11781
١١٧٨١ - حدثنا أبو معاوية عن الهجري قال: صليت مع عبد اللَّه بن أبي أوفى على جنازة فكبر عليها أربعًا، ثم قام (هنيهة) (١) حتى ظننت أنه (يكبر) (٢) خمسًا، ثم سلم فقال: أكنتم ترون أني أكبر خمسًا؛ (إنما) (٣) قمت كلما رأيت رسول اللَّه ﷺ قام (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت الھجری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، آپ نے اس میں چار تکبیرات پڑھیں ، پھر تھوڑی دیر کھڑے رہے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر آپ نے سلام پھیرا اور فرمایا : کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا ؟ میں اسی طرح کھڑا رہا جس طرح میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑا دیکھا۔
حواشی
(١) في [ص]: (هنينه).
(٢) في [ص]: (كبر).
(٣) في [ص]: (إني).