مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في وضع الرجل عنقه فيما بين عودي السرير باب: یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پائوں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
حدیث نمبر: 11512
١١٥١٢ - حدثنا (معن) (١) بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت سالم بن عبد اللَّه بين (عمودي) (٢) سرير أمه حتى (خرج بها) (٣) من الدار، وحمزة وعبيد اللَّه (أحدهما) (٤) آخذ بعضادات السرير اليمنى والآخر باليسرى.مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں ہمیں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کو والدہ کی جنازہ کی چارپائی کے دونوں ٹانگوں کے درمیان دیکھا یہاں تک کہ ان کو لے کر گھر سے نکلے، اور حمزہ اور عبید اللہ میں سے ایک نے چارپائی کی داہنی جانب (ہاتھ) اور دوسرے نے بائیں جانب پکڑ رکھی تھی۔
حواشی
(١) في [ص]: (معين).
(٢) في [ز]: (عمودين).
(٣) في [ص]: (أخرجها).
(٤) في [ز]: (إحداهما).