مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الميت (يحشى) دبره وما يخافون منه باب: میت کے پائخانے کی جگہ پر اور جہاں سے کچھ نکلنے کا خوف ہو وہاں کچھ لگا دیا جائے
حدیث نمبر: 11352
١١٣٥٢ - حدثنا أبو داود عن الربيع قال: سمعت ابن سيرين يقول: يحشى دبر الميت (وفوه) (١) ومنخراه قطنًا، وقال محمد: ما عالجت (دبره) (٢) فعالجه (بيسارك) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے سنا میت کے دبر، منہ اور ناک پر روئی چپکا دی جائے گی، محمد کہتے ہیں اس کے پاخانے کی جگہ پر جو علاج کرنا پڑے (کوئی چیز رکھنا پڑے) وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کرنا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (وفاه).
(٢) في [ص]: (دبر).
(٣) في [أ، ص، ز]: (بيسارك)، وفي [ب]: (بيساره)، وفي [هـ]: (بيسار).