مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما قالوا في الميت كم يغسل مرة؟ وما يجعل في الماء مما يغسل به؟ باب: غسل دیتے وقت میت کو کتنی مرتبہ دھویا جائے گا؟ اور جس پانی سے غسل دیا جا رہا ہے اس پانی میں کیا ملایا جائے گا؟
١١٢١٥ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد عن أم عطية قالت: دخل علينا رسول اللَّه ﷺ ونحن نغسل ابنته فقال: "اغسلنها ثلاثًا أو خمسًا أو أكثر ⦗٤٥٨⦘ من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر، واجعلن في الآخرة كافورًا (أو شيئًا من كافور) (١) فإذا فرغتن (فآذنني) (٢) "، فلما فرغنا آذناه فألقى إلينا حقوه فقال: "أشعرنها إياه" (٣).حضرت ام عطیہ ارشاد فرماتی ہیں کہ ہم اپنے بیٹے کو غسل دے رہے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اس کو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ غسل دو ۔ اگر تم اس کو مناسب سمجھو پانی اور بیری کے پتوں کیساتھ، اور آخر میں اس کو کافور یا کوئی اور خوشبو لگا دو ، جب تم غسل دے کر فازغ ہو جاؤ تو مجھے بلا لینا، راویہ کہتی ہیں کہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک ہمیں عنایت فرمائی اور فرمایا اس کو اس میں کفن دو ۔