مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما ذكر في الكنز والبخل (بالحق) في المال باب: مال میں بخل اور خزانے سے متعلق جو مذکور ہے اسکا بیان
١١٠٠٧ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: (حدثنا) (١) عبد الملك (بن) (٢) أبي سليمان عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من صاحب إبل ولا ⦗٣٨٩⦘ بقر ولا غنم (٣) لا يؤدي حقها إلا (أقعد) (٤) لها يوم القيامة بقاع قرقر، تطأه ذات الظلف بظلفها، (وتنطحه) (٥) ذات القرن بقرنها وليس فيها يومئذٍ جماء ولا مكسورة القرن"، (قالوا) (٦): يا رسول اللَّه وما حقها؟ قال: "إطراق فحلها وإعارة دلوها ومنيحتها و (حلبها) (٧) على الماء وحمل عليها في سبيل اللَّه" (٨).حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی اونٹوں، گائے اور بکریوں والا شخص جس نے ان کا حق ادا نہیں کیا رکھا جائے گا قیامت کے دن برابر اور چٹیل میدان میں، جہاں ہر کھر والا جانور اس کو کھروں سے روندے گا اور ہر سینگ والا جانور اس کو سینگ سے مارے گا، اس دن کوئی جانور ایسا نہ ہوگا جس کے سینگ نہ ہوں یا ٹوٹے ہوئے ہوں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ان کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جفتی کیلئے اونٹ کسی کو (عاریۃ) دے دینا، اور اس کے ڈول کا عاریۃ دینا، اور اس کو کسی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے عاریۃ دینا، اور اونٹنی کا دودھ پانی کے گھاٹ کے پاس نکالنا (تاکہ مساکین بھی پی سکیں) اس کے دودھ کو پانی سے دور رکھنا، اور اس پر اللہ تعالیٰ کے راستہ میں سواری کرنا۔