مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في الاستغناء عن المسألة من قال: اليد العليا خير من اليد السفلى؟ باب: سوال کرنے سے استغناء کرنا، کہا گیا ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے
١١٠٠٢ - حدثنا معاوية (بن) (١) هشام قال: ثنا سفيان عن أشعث بن أبي الشعثاء عن أسود بن هلال عن ثعلبة بن زهدم قال: انتهى قوم (من) (٢) ثعلبة إلى النبي ﷺ وهو يخطب وهو (يقول) (٣): "يد المعطي العليا ويد السائل السفلى، وابدأ بمن تعول أمك وأباك وأختك وأخاك (وأدناك فأدناك) (٤) " (٥).حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی شریف میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص مسجد میں آیا، مسجد میں موجود جو حلقہ بھی اسے دیکھتا اس سے بھاگتا۔ یہاں تک وہ آخری تک پہنچا کہ جس میں، میں تھا، لوگ تو بھاگ گئے لیکن میں وہاں ہی ثابت قدم موجود رہا۔ میں ان سے پوچھا آپ کون ہیں ؟ وہ فرمانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ابو ذر ، میں نے عرض کیا کہ لوگ آپ سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ فرمایا اس لئے کہ میں ان کو خزانے (جمع کرنے سے) روکتا ہوں، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ہمارے مالوں اور خزانوں کے زیادہ ہونے سے پریشان ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں البتہ ہوسکتا ہے کہ یہ مال و دولت ایک دن تمہارے لیے دین سے دوری کا باعث بن جائے۔