حدیث نمبر: 11002
١١٠٠٢ - حدثنا معاوية (بن) (١) هشام قال: ثنا سفيان عن أشعث بن أبي الشعثاء عن أسود بن هلال عن ثعلبة بن زهدم قال: انتهى قوم (من) (٢) ثعلبة إلى النبي ﷺ وهو يخطب وهو (يقول) (٣): "يد المعطي العليا ويد السائل السفلى، وابدأ بمن تعول أمك وأباك وأختك وأخاك (وأدناك فأدناك) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی شریف میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص مسجد میں آیا، مسجد میں موجود جو حلقہ بھی اسے دیکھتا اس سے بھاگتا۔ یہاں تک وہ آخری تک پہنچا کہ جس میں، میں تھا، لوگ تو بھاگ گئے لیکن میں وہاں ہی ثابت قدم موجود رہا۔ میں ان سے پوچھا آپ کون ہیں ؟ وہ فرمانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ابو ذر ، میں نے عرض کیا کہ لوگ آپ سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ فرمایا اس لئے کہ میں ان کو خزانے (جمع کرنے سے) روکتا ہوں، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ہمارے مالوں اور خزانوں کے زیادہ ہونے سے پریشان ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں البتہ ہوسکتا ہے کہ یہ مال و دولت ایک دن تمہارے لیے دین سے دوری کا باعث بن جائے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ص]: (عن).
(٢) سقط من: [ف، هـ].
(٣) في [أ]: (تقول).
(٤) في [أ]: (فأذناك فاذناك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11002
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية صدوق، والجمهور على أن ثعلبة صحابي، أخرجه أحمد (١٦٦١٣)، والنسائي ٨/ ٥٣، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١٧٥)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٨٦، والبزار (٩١٧/ كشف)، والطبراني (١٣٨٤)، وهناد في الزهد (٩٦٣)، وابن قانع ١/ ١٢٥، والبيهقي ٨/ ٣٤٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11002، ترقيم محمد عوامة 10797)