مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا فيما رضي فيه من المسألة لصاحبها؟ باب: بعض حضرات نے کچھ مخصوص لوگوں کیلئے سوال کرنے کی گنجائش اور رخصت دی ہے
١٠٩٩٢ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق أن سائلًا سأل ابن عمر والحسن والحسين وعبد اللَّه بن جعفر فقالوا: إن كنت تسأل (لدين) (١) (مفظع) (٢) أو فقر مدقع (أو قال مودع) (٣) أو قال دم موجع فإن الصدقة تحل لك (٤).حضرت قبیصہ بن المخارق الھلالی فرماتے ہیں کہ میں مقروض ہوگیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سوال کرنے کی غرض سے حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے قبیصہ ٹھہر جا یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ (کا مال) آجائے تو ہم اس میں سے تیرے لئے حکم فرمائیں۔ پھر مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سوال کرنا تین اشخاص کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ ایک وہ شخص جو مقروض ہوگیا ہو توا س کیلئے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس سے ادا کر دے اور پھر (سوال کرنے سے) رک جائے، دوسرا وہ شخص جس کو کوئی آفت پہنچے اور و ہ اس کے مال کو ھلاک کر دے تو اس کیلئے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے رہن سہن کی زندگی کو کچھ تقویت پہنچے اور وہ پھر (سوال کرنے سے) رک جائے، اور تسرہا وہ شخص جس کو فاقہ پہنچے یہاں تک کہ تین صاحب رائے شخص اس کے قبیلہ کے یہ کہیں کہ تحقیق فلاں کو فاقہ پہنچا ہے، تو اس کئے نچ سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے رہن سہن کو تقویت ملے پھر وہ (سوال کرنے سے) رک جائے، اے قبیصہ ان کے علاوہ سوال کرنے والا حرام کھانے والا ہے۔