مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من كره المسألة ونهى عنها (وشدد) فيها باب: سوال کرنے کی ممانعت اور اس پر وعید اور تشدید
حدیث نمبر: 10987
١٠٩٨٧ - حدثنا حفص وأبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن ابن أبي ليلى قال: (جاء) (١) سائل فسأل (أبا ذر) (٢) فأعطاه شيئًا فقيل له تعطيه وهو موسر فقال: إنه سائل وللسائل حق، وليتمنين يوم القيامة أنها كانت رضفة في يده (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پہنچا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اس حال میں سوال کرے کہ اس کے پاس چالیس درہم یا اس کے برابر مال ہو پس وہ لوگوں سے چمٹ کر، پیچھے پڑ کر سوال کرنے والا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: (جاءه).
(٢) سقطت من: [ب، هـ]، وفي [أ، ح، هـ]: [إن أذن)؛ وانظر: الدر المنثور ٢/ ٩٣.